ابنا: ستمبر کے آخر میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہونے والے ایک اجلاس میں جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس کے مطابق سال کے اختتام تک 20 لاکھ شامی شھری اپنے ملک سے ملحقہ ممالک کی سرحدوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اقوام متحدہ کی سربراہی میں ہونے والی کانفرنس میں اقوام متحدہ سے منسلک دس اداروں کے نمائندگان سمیت مھاجرین کی عالمی تنظیم اور معروف امدادی تنظیموں کے اٹھارہ گروپ شریک ہوئے۔
مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے اعاد و شمار کے مطابق اس وقت صرف اردن میں 3 لاکھ شامی باشندے پناہ گزین ہیں جن میں 1 لاکھ 42 ھزار افراد مختلف مھاجر کیمپوں میں موجود ہیں جبکہ بقیہ مھاجرین اردن کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں زندگی گذار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت لبنان میں بھی 7 لاکھ شامی شہری موجود ہیں۔ یاد رہے کہ شام میں گذشتہ تین سالوں سے مغربی اور بعض عرب ممالک کی حمایت اور سر پرستی میں دہشتگردی کا سلسلہ جاری ہے اور شامی عوام بد امنی کی وجہ سے ھمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔
.......
/169